Cart0

ابتدائیہ

آج کے دور میں کتاب کا کاروبار سراسر گھاٹے کا سودا جانا جاتا ہے

ہم نے جب اُردو کتابوں کی ویب سائٹ بنانے کا ارادہ کیا تو حوصلہ افزائی کا فقدان پایا۔یار لوگ کہنے لگے کہ کوئی پلاٹ خرید لو ، یا کھانے پینے کے کاروبار میں پیسہ لگاو ویب سائٹ ہی بنانی ہے تو گھریلو استعمال کی مصنوعات بیچو، ریڈی میڈ گارمنٹس خوب بکتی ہیں۔بیوٹی کریمیں ہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہیں۔تم کس دم توڑتے کاروبار کی طرف جا رہے ہو کون پوچھتا ہےآج کل کتابوں کو۔۔۔۔اچھے اچھے ڈگری یافتہ لوگ اب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کتابیں پڑھنے کا وقت ہی نہیں۔ ایک ستم ظریف نےتو یہ تک کہہ دیا کہ کتاب تو اگلے پانچ دس سالوں میں ویسے ہی ختم ہو جائے گی اس کا دَور تو لَد گیا۔جلد ہی تم بھی دُکان بڑھا لو گے۔ اب اس چھاپا شدہ کاروبار میں کوئی معجزہ نہیں ہو سکتا تم کون سا اعجاز دکھاو گے۔

آج کا دور جب جوتے شوکیس میں اور کتابیں فٹ پاتھ پر بک رہی ہیں ، ہاں اگر کتابوں کا کام ہی کرنا ہے تو انگریزی کتابوں کی ویب انگریزی میں بناو۔لیکن دل کا کیا کریں صاحب ہمیں کتابوں سے محبت ہے یہ ہمارا کاروبار ہی نہیں ہمارا پیار بھی ہے۔اُردو ہماری آن ہے شان ہے اُردو زبان اور اردو کتابوں کی ترویج اور نشرواشاعت ہماری ترجیح ہے۔یوں تو اردو کتابوں کی سینکڑوں ویب سائٹس ہیں جہاں کتابیں آن لائن نقد آن ترسیل پر فروخت کی جاتی ہیں لیکن کچھ کمی سب میں یکساں طور پائی جاتی ہے سب سائٹس مختلف اداروں کی ذاتی ہیں یا کسی شاعر یا مصنف نے انفرادی طور پر بنارکھی ہے اور یا تو کسی ایک ہی اشاعتی ادارے کی کتب یا کسی ایک لکھنے والے کی کتابیں رکھی ہیں۔
ایسے میں ادارہ” کتابی دنیا” اُردو کتابوں کے شیدائی قارئین کے لئے ایک نئی سوچ نیا خیال لایا ہے ایسا اس سے قبل نہیں ہوا ۔ہاں آئندہ آنے والے ایسے ہی کریں گے اور ان کو ایسا ہی کرنا پڑے گا۔ہر مصنف ہر ادارہ اور ہر موضوع کی کتابیں ایک چھت تلے ایک ہی کھڑکی سے

ایک ضروری بات ہم نئے نہیں ہیں عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں

کتابیں ہمارے لئے نئی نہیں ہیں اور نہ ہی ہم کتابوں کے لئے اجنبی۔سب کتابیں ہمیں جانتی ہیں اور ساری کتابوں سے ہم واقف ہیں۔یہ آج کی بات نہیں پون صدی کا قصہ ہے،جب آنہ لائبریری کا دور تھاجب ناول کرائے پر دستیاب ہوتے تھے،ہم پڑھنے والوں کے مزاج کو بھی سمجھتے ہیں ہمیں کتابوں کا معیار بھی پرکھنا آتا ہے،ریاضت اور مہارت کی کیمیا گری سے کتابی دنیا وجود میں آئی ہے۔ہم سب سے پہلے تو نہیں آئے لیکن سب سے بہتر کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں

کیوں کہ ۔۔۔۔ ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

ہم تیشہءفرھادسے سنگلاخ چٹانوں کا سینہ شق کرنے کا عزم لئے آپ کی خدمت میں آئے ہیں۔ہمیں آپ کی توجہ اور پیار چاہئے۔اردو اور اردو کتابوں کے چاہنے والے جہاں جہاں بستے ہیں بس ہماری ویب پر آجائیں ۔اس لئے کہ یہ صاحبانِ قلم وقرطاس کی دنیا ہے۔
اُردو پڑھیے۔اُردو لکھیئے۔اُردو بولیے۔
اردو ہمارا ورثہ ہے اسےِ محفوظ بنانے میں ہمارا ساتھ دیجئے۔

اُردو ہے جس کا نام ہمہی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے۔

کتابی دنیا ہمارا خواب تھا  دیرینہ خواب لیکن خواب غفلت ہر گزنہ تھا۔یہ بقائم ہوش و حواسِ خمسہ تھا۔ کتابی دنیا کوئی پتھر کا مجسمہ نہیں تھا جسے اٹھا کر پڑھنے والوں کے جرگہ میں ایستادہ کر دیا جاتا۔ اس میں ہر چیز چمٹی سے اٹھا کر سلیقے سے سجائی جاتی ہے۔ تحقیقِ تردد محنتِ شاقہ عزمِ مصمم سر پھٹول کے ساتھ ساتھ سرخ آنکھوں کی تپش دروںِ سینہ فشارِ خون کی حدت برداشت کرنا پڑی ہے۔
کتابی دنیا ابھی نو وارد ہے۔ آپ کی تجاویز، شکایات، اورآراء کی روشنی ہمارے آگے بڑھنے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

سلیقے سے ہواؤں میں جوخوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں