ابنِ انشاء

ابن انشاء1927
میں پھلور ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ شاعر ،مزاح نگار،صحافی، سیاح،مترجم،اصل نام شیر محمد خان تھا۔ مختلف فلمی ناموں ، دو درویش،دمشقی، حاجی بابا اور ابن انشاء کے نام سے لکھتے رہے۔ 1942 میں لدھیانہ سے میٹرک کیا۔ 1946 میں بی اے کی سند پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ اور 1953 میں ایم اے اردو جامعہ کراچی سےکیا۔ قیام پاکستان سے پہلے امپیریل کونسل برائے زرعی تحقیق دہلی کے جریدے”انڈین فارمنگ“ کے شعبہ ادارت سے وابستہ رہے۔ پھر آل انڈیا ریڈیو دہلی سے منسلک ہو گئے۔1947 میں پاکستان ہجرت کرنے کے بعد ریڈیو پاکستان لاہور اور پھر کراچی اسٹیشن سے وابستہ ہو گئے۔ 1950 تا 1956 دستور ساز اسمبلی میں سنئیر مترجم کے طور پر کام کیا۔ 1961 سے اپنی وفات تک نیشنل بک سنٹر کے ڈائریکٹر رہے۔ ٹوکیو بک ڈویلپمنٹ پروگرام کے وائس چئیرمین اور ایشین پبلی کیشنز پروگرام ٹوکیو کی مرکزی مجلس ادارت کے رکن تھے۔
پاکستان ڑائٹرز گلڈ کے بانیوں میں سے ایک ہیں بطور خازن اعزازی خدمات انجام دی۔ یونیسکو کی طرف سے بطور مشیر مقرر ہوئے۔ سیاح کی حیثیت سے تقریبا ساری دنیا کی سیاحت کی۔ اپنے مشاہدات کو آپ نے اپنے چار سفر ناموں میں دلچسپ اور شگفتہ اسلوب میں بیان کیا ”چلتے ہو توچین کو چلیے“ ”آوارہ گرد کی ڈائری“ ”دنیا گول ہے“ ”ابن بطوطہ کے تعاقب میں“ ان کی شاعری کے مجموعے یہ ہیں چاند نگر، اس بستی کے ایک کوچے میں،قصہ ایک کنوارے کا،چینی نظمیں(مترجم) بلو کا بستہ(بچوں کے لیے نظمیں)
آپ سے کیا پردہ، بقلم خود،باتیں انشاء جی کی، دخل در معقولات،کے عنوانات سے پاکستان کے معروف اخبارات و جرائد میںفکاہیہ کالم تحریر کیے۔ ابن انشاء نے ادب کےشہہ پاروں کا ترجمہ نفاست سے کیا ایڈگر ریلنی پو آپ کو پسند تھا۔ اس کے تمام افسانوں کے تراجم کے پانچ مجموعے شائع ہوئے۔ حلق کے سرطان کے مرض میں مبتلا ہو کر بغرض علاج لندن گئے۔ لیکن جانبر نہ ہو سکے۔ 12 جنوری 1978 کو انتقال ہوا پاپوش نگر کراچی میں دفن ہیں۔