افتخار عارف

آپ کا اصل نام افتخار حسین ھے۔عارف تخلص ھے۔ آپ ایک قد آور ادبی شخصیت ہیں جو اس وقت اکادمی ادبیات پاکستان (اسلام آباد) کے چیئرمین ہیں اس سے قبل 1995 سے2000 تک مقتدرہ قومی زبان کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ آپ 1943 کو لکھنو میں پیدا ھوۓ ابتدائی تعلیم مدرسہ نظامیہ فرنگی محل سے حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ جوبلی کالج لکھنؤ میں زیر تعلیم رہے۔ ایم اے کے بعد ایم اے ایس لکھنؤ یونیورسٹی سے کیا۔ 1965 میں ریڈیو سے وابستہ ھو گۓ اور اگلے بارہ سالوں تک ہندی سروس، برطانوی سروس اور ریڈیو پاکستان کی بیرونی سروس سے منسلک رہے۔اس دوران پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز میں سینئر پروڈیوسر اور اسکرپٹ ایڈیٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ 1977 سے1980 تک بنک آف کریڈٹ اینڈ کامرس لندن کے شعبہ تعلقات عامہ کے بعد 1981 سے 1990 تک اردو مرکز لندن کے ایگزیٹو انچارج رہے۔ 1991 میں اکادمی ادیبات کے ڈائریکٹر جنرل بن گۓاس عہدے پر 1995 تک فائز رہے۔ مہردونیم، بارہواں کھلاڑی، حرف باریاب اور جہان معلوم آپ کی تخلیقات ہیں۔ آپ کی شخصیت پر کئی کتابیں چھپ چکی ہیں۔ جن میں شیما مجید کی جواز افتخار، نرگس گل ملک کی افتخار عارف فن اور شخصیت۔ بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی سے لیاقت علی کی تالیف افتخار عارف کی شاعری کا فنی و فکری تجزیہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کی شاعری اور شخصیت پر مقالے بھی لکھے جا چکے ہیں۔ آپ کا منتخب کلام فارسی،ہندی،چینی،نارویجن، اور جرمن زبان میں بھی ترجمہ ھو کر چھپ چکا ہے۔ آپ کی کتاب “بارہواں کھلاڑی” کا ترجمہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس لندن سے شائع ھوا ھے۔ بے شمار ادبی رسائل افتخار عارف کی شخصیت کا احاطہ کر چکے ہیں۔ مشہور میوزک کمپنی ای-ایم-آئی افتخار عارف کے کلام پر مبنی نامور گلوکاروں کی آواز میں کیسٹ اور لانگ پلے جاری کر چکی ھے۔ برطانیہ، ہندوستان،ناروے،کینیڈا،امریکہ،متحدہ عرب امارات، انڈونشیا، ایران اور متعدد ممالک کے دورے اور وہاں مشاعروں اور مزاکروں میں حصہ لے چکے ہیں۔ آدم جی ایوارڈ، رائٹر گلڈ ایوارڈ، قومی ہجرہ ایوارڈ، نقوش ایوارڈ، باباۓ اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ، ستارہ امتیاز کے علاوہ صدارتی تمغہ براۓ کارکردگی لے چکے ھیں۔