جون ایلیا

شاید،لیکن،گویا،گمان۔فرنود، جیسی کتابوں کے خالق اردو ادب کی ایک قد آور شخصیت ۔ اردو میں ایم اے عربی میں فاضل اور فارسی میں کامل کی سند رکھتے تھے۔ 1937ء میں امروہہ اتر پردیش بھارت میں پیدا ہوئے۔معروف ادبی شخصیت رئیس امروہوی کے بھائی ہیں۔ انہوں نے اپنا پہلا شعر محض8 سال کی عمر میں لکھا۔ 1958 میںماہناہ انشاء کا اجرا کیا۔ 1963ء میں اسے عالمی ڈائجسٹ کا نام دیا۔1967 میں ترقی اردو بورڈ سے وابستہ ہو کر اردو لغات کے لئے کام کیا۔بعد ازاں ماہناہ روشن خیال کا اجرا بھی کیا۔ انہیںاپنا کلام چھپوانے کا کوئی شوق نہ تھا۔ان کا پہلا شعری مجموعہ جب چھپا تو ان کی عمر 60 برس تھی۔ معروف ادبی شخصیت زاہدہ حنا سے شادی کی۔ بقول شکیل عادل زادہ جون ایلیا شاعر تھے۔بچپن سےآخری سانس تک سخن کاری و قلم اندازی کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔

کارخانوں میں خون تھوکنے کے۔۔۔۔۔۔ اپنی روزی کما رہا ہوں میں۔

سسپینس ڈائجسٹ اپریل 1991ء کے انشائیہ سے جملے نقل ہیں کہ ” ہمیں اس حقیقت کا احساس کیوں نہیں ہوتا کہ ہم تاریخ کے دستر خوان پر ایک ہزار برس سے حرام خوری کے سوا اور کچھ نہیں کر رہے”جون ایلیا ادب ،فلسفہ، منطق، اور تاریخ پر عبور رکھتے تھے۔ سسپنس ڈائجسٹ میں ان کے انشائیہ آج بھی تواتر کے ساتھ نشرِ مکرر کے طور پر شائع ہوتے ہیں۔جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر 2002ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔