حبیب جالب

  • حبیب جالب
    عوامی شاعر 28 فروری 1928 کو مہانی افغنان ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ اصل نا م حبیب اللہ ہے۔والد کا نام صوفی عنایت اللہ خان جو علامہ اقبال کی شاعری کے دلدارہ تھے۔ بچپن ہوشیار پور میں گزارا دوسری جنگ عظیم کے کے زمانہ میں ان کے والدین فوت ہو گئے۔ حبیب اللہ کو چودہ سال کی عمر میں اینگلو عربک سکول میں داخل کرایا گیا۔ جس کی توجہ پڑھائی سے زیادہ شاعری کی طرف تھی۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی آگئے۔ اور جیکب لائنز سکول میں داخل ہوئے۔لیکن نصاب سے چڑھ تھی اور شاعری سے عشق
    راغب مراد آبادی کے سامنے زانوے تلمز تہہ کیا زمانہ طالب علمی ہی میں حبیب جالب نے اپنے مشہور باغیانہ نظم ”دستور“ اپنی مخصوص طرز میں ترنم میں پڑھی۔ اور لوگوں نے ان کے ہر مصرعے کا ساتھ دیا۔
    میں نہیں جانتا میں نہیں مانتااس دستور کو۔۔۔
    اس کے ساتھ ہی قید و بند کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ صدر محمد ایوب خان کے دس سالہ عہد میں شاعر نے کم و بیش ساڑھے چار سال جیل کی صوبتیں برداشت کیں۔ جب جنرل محمد یحییٰ خا ن کا مارشل لاء لگا تو اس کے خلاف بھی حبیب جالب نے نعوہِ مستانہ بلند کیا۔ حبیب جالب نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں بھی اس کے خلاف شعر کہے اور گرفتار ہوئے۔ اور دس ماہ جیل میں رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف بھی حبیب جالب نے شاعری کی اور تقریبا چھ ماہ جیل میں رہے۔
    حبیب جالب کی شاعری کے مجموعے یہ ہیں۔
    برگ آوارہ،سیر مقتل،عہد ستم،ذکر بہتے ہوئے خون کا،گوشے میں قفس ،عہد سزا،حرف حق، اس شہر خرابی میں،حرف سردار و کلیات،
    حبیب جالب نے 12 مارچ 1993 کو وفات پائی۔