ساغر صدیقی

اردو کا سب سے درویش صفت شاعر اصل نام اختر تھا۔

جس دور میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس دور کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے۔

1928ء میں بھارت کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے۔ بچپن کا دور انبالہ میں گزارنے کے بعد 1948ء میں تقسیم کے بعد لٹی پٹی حالت میں لاہور پہنچ گئے۔ جلد ہی ان کا شاعری کا سکہ چہار سو چلنے لگا تاہم معاشی طور پر بد حال ہی رہے۔ اور فٹ پاتھ کی زندگی بسر کرنے لگے۔ نشے کی لت بھی لگ گئی۔ہفت روزہ مصور میں نوکری کی۔ لیکن تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے چھوڑ دی ان کی زبان زدِ عام شاعری کی شہرت سے کچھ فلمساز بھی ان تک پہنچے۔ یوں ان کے لیے عارضی طور پر فلمی گیتوں کے دروازے بھی کھلے۔ دو آنسو، جبرو، باپ کا گناہ، غلام، انجان، سرفروش اور باغی جیسی معرکۃ الارا فلموں کے گیت لکھے۔ لیکن روشنیوں کی دنیا کے اندھیرے باسیوں نے ان کو اتنے دھوکے دیے کہ ساغر صدیقی دلبرداشتہ ہو گئے۔ ایک کمبل ہی ان کا اثاثہ اور پہچان تھا جسے رات کو بچھاکر سو جاتے اور دن بھر کندھے پر ڈالے رکھتے۔
اس غریب الوطنی میں بے چارہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر19 جولائی 1985ء کو فوت ہو گیا۔ میانی صاحب کے قبرستان میں مدفون ہیں

آؤ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں