سید ضمیرجعفری

اردو مزاحیہ ادب کی تاریخ سید ضمیرجعفری کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ھو سکتی۔ ضمیر جعفری کے متعلق فیصلہ نہیں ھوسکتا کہ وہ اچھے ادیب تھے یا اچھے شاعر۔ وہ سفر نامہ نگار بھی تھے۔پیشہ کے لحاظ سے فوجی افسر تھے۔ میجر کے عہدے سے ریٹائر ھوۓ۔ دوسری جنگ عظیم بھی لڑی۔ آپ نے بے شمار کتابیں لکھیں۔ جن میں ضمیر حاضر ضمیر غائب، ضمریات، مافی الضمیر، ارمغانِ ضمیر، کار زار سورج میرے پیچھے- کنگرو کے دیس میں- آنریری خسر۔ اڑتے خاکے۔ ملایا کے لوگ۔ من کے تار۔ ہندوستان میں دو سال۔ کالے گورے سپاہی۔ سفرنامہ،خبرنامہ۔ شاہی حج۔ جنگ کے رنگ۔ مسدس بد حالی۔ جزیروں کے گیت۔ قریہ جان۔ زیور وطن۔ ولایتی زعفران۔ گورخند۔ نعتوں کا ایک مجموعہ بھی چھپا اوربے شمار دوسری کتب بھی۔ آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے 1984 میں آپ کو صدارتی ایوارڈ براۓ حسن کارگردگی دیا گیا۔ تمغہ قائد اعظم بھی آپ حاصل کر چکے ھیں۔ ان کی مشہور زمانہ کتاب “ کتابی چہرے” پر انہیں آدم جی ایوارڈ بھی مل چکا ھے۔ سید ضمیر جعفری کا تعلق دینہ ضلع جہلم سے ہے۔ گاؤں کا نام چک عبدالخالق ہے۔ ضمیر جعفری نے اس گاؤں میں 1916 یکم جنوری کو جنم لیا۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ھائی سکول جہلم سے حاصل کرنے کے بعد بی-اے 1938 میں لاہور سے کیا۔ بطور سب ایڈیٹر روزنامہ احسان لاھور سے وابستہ رہے۔ کچھ عرصہ ہفت روزہ شیرازہ میں بھی کام کیا۔ فوج میں میجر کے عہدے پر فائز تھے۔ آپ اپنے روزانہ کی مصروفیات کا باقاعدہ ریکارڈ ڈائری کی صورت میں رکھتے۔ ستمبر 1943 کے بعد تقریباً ساری زندگی ہر رات کو اپنی ڈائری لکھتے۔ یہ بڑے جان جوکھوں کا کام ھی جو ہر دس ھزار میں سے ایک آدمی ہی لکھ پاتا ہے۔وہ بھی محض چند برس تک لیکن ضمیر جعفری نے تقریباً 45 سال روزمرہ کا احوال ڈائری میں قلمبند کیا ھے۔ سید ضمیر جعفری کا شمار ان شخصیات میں ھوتا ھے جو اردو ادب کا اثاثہ ہیں۔ کھانے میں آپ مٹن پلاؤ بے حد پسند تھا۔ آپ سی-ڈی-اے کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ آپ نے تین شادیاں کیں۔ بھارت کے سابق وزیراعظم اندر کمال گجرال ان کے پرستاروں میں سے تھے۔ پاکستان کے نامور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی آپ کی شخصیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر ضمیر جعفری نہ ھوتے تو ہم بھی نہ ھوتے۔ آپ اکادمی ادبیات کے اڈیٹر ادبیات بھی رہ چکے ھیں۔آپ بلا کے مزاح نگار ھونے کے ساتھ ساتھ سرتاپاۓ محبت و شفقت تھے۔ بچے بوڑھے اور جوان سبھی انہیں اپنا ھمعصر سمجھتے تھے آپ نے مزاحیہ شاعری کے ساتھ ساتھ نثر،سنجیدہ شاعری اور تراجم کے میدان میں بیک وقت الگ الگ اپنے آپ کو منوایا۔ لگ بھگ 80 سال دوسروں کو ھنسانے والی یہ باغ و بہار شخصیت آخر کار 12 مئی 1999 کو اپنے سفر آخرت پر روانہ ھو گئی۔