علامہ اقبال

ڈاکٹر علامہ اقبال سے کون واقف نہیں ۔ مفکرپاکستان ،شاعر مشرق،قائداعظم کے دست راست ان کے تعارف اور تو صیف پر بلاشبہ سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور لکھی جاتی رہیں گی۔اردو اور فارسی کی شاعری میں ان کو سب سے سر بلند مقام حاصل ہے۔یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اردو کے تمام شعراء کی کتابوں کی فروخت ایک طرف اور اکیلے علامہ اقبال ایک طرف یعنی تمام اردو شعراء کی کتابوں کی مجموعی فروخت سے بھی زیادہ علامہ اقبال کی کتب فروخت ہوتی ہیں۔ آپ3 ذیقعد 1295 بمطابق 9 نومبر 1977ء سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔فلسفہ میں ایم اے کیا۔میونخ یونیورسٹی سے پی-ایچ-ڈی کی ڈگری لی۔ انگلستان سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ حکومت برطانیہ نے سر کا خطاب دیا۔ بانگ ِدرا(1924ء) بالِ جبریل 1935ء ضرب کلیم 1939 ء اسرارِ خودی، رموزِ بے خودی ، پیام مشرق، زبورِ عجم ،جاوید نامہ ان کے شعر ی مجموعے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی انہوں نے بے شمار فارسی،اردو اور انگریزی کتابیں لکھی۔مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ مملکت کا نظریہ سب سے پہلے اقبالؒ نے ہی پیش کیا۔ آپ نے 1937 میں انتقال فرمایا۔