واصف علی واصف

واصف علی واصف بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، کالم نگاراورمسلم صوفی تھے۔حضرت واصف علی واصفؒ 15 جنوری 1929ءکو خوشاب میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد ماجد ملک محمد عارف صاحبؒ کا تعلق وہاں کے قدیم اور معزز اعوان قبیلے کی ایک ممتاز شاخ ”کنڈان “سے تھا ۔ ابتدائی تعلیم خوشاب میں حاصل کی۔ جون 1939ءمیں گورنمنٹ ہائی سکول خوشاب سے مڈل کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد آپؒ اپنے نانا کے پاس جھنگ چلے آئے۔ وہ ایک ممتاز ماہرِتعلیم تھے اور جوانی میں قائدِ اعظمؒ کے زیرِ نگرانی امرتسر میں مسلم لیگ کے لیے کام کر چکے تھے۔مختلف اخباروں اور جرائد میں آپؒ کا کلام چھپا کرتا تھا۔ چند اصحاب کے اصرار پر یہ کلام جمع کیا تو آپؒ کی پہلی تصنیف منظرِ عام پر آئی۔ یہ 1987ءکی بات ہے۔ مجموعہ کلام کا نام ”شب چراغ نام رکھا گیا۔حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک فرمان ہے کہ ”عظیم لوگ بھی مرتے ہیں مگر موت ان کی عظمت میں اضافہ کرتی ہے ۔آپ نی 18 جنوری1993  بمطابق 24 رجب 1541ھ کی سہ پہر کو اس دارِ فانی سے آنکھیں موند لی تھیں ۔آپ کے فرمودات اور تقاریر پر مبنی 30 سے زیادہ کتابیں پختہ کار قارئین کی پیاس بجھا رہی ہیں۔