احمد ندیم قاسمی

احمد ندیم قاسمی پاکستان کے ایک معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیراورکالم نگار تھے۔ افسانہ اور شاعری میں شہرت پائی۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ نمایاں مصنفین میں شمار ہوتا تھا اور اسی وجہ سے دو مرتبہ گرفتار کیے گئے۔ قاسمی صاحب نے طویل عمرپائی اورلگ بھگ نوّے سال کی عمرمیں انھوں نے پچاس سے کچھ اوپرکتابیں تصنیف کیں۔ احمد ندیم قاسمی مغربی پنجاب کی وادی سون سکیسرکے گاؤں انگہ ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے۔ اصل نام احمد شاہ اور اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ندیم ان کا تخلص تھا۔قاسمی صاحب کی ابتدائی زندگی کافی مشکلات بھری تھی۔ جب وہ اپنے آبائی گاؤں کو خیرباد کہہ کر لاہور پہنچے تو ان کی گزر بسر کا کوئی سہارا نہ تھا۔ کئی بار فاقہ کشی کی بھی نوبت آ گئی لیکن ان کی غیرت نے کسی کو اپنے احوال سے باخبر کرنے سے انھیں بازرکھا۔ انھی دنوں ان کی ملاقات اختر شیرانی سے ہوئی۔وہ انھیں بے حد عزیزرکھنے لگے اوران کی کافی حوصلہ افزائی بھی کی۔اس دوران احمد ندیم قاسمی کی ملاقات امتیازعلی تاج سے ہوئی جنھوں نے انھیں اپنے ماہانہ رسالے پھول کی ادارت کی پیش کش کی جو انھوں نے قبول کر لی۔ پھول بچوں کا رسالہ تھا۔ اس کی ایک سالہ ادارت کے زمانے میں قاسمی صاحب نے بچوں کے لیے بہت سی نظمیں لکھیں جو بچوں میں بہت پسند کی گئیں ۔قاسمی صاحب کی شاعری کی ابتدا 1931 میں ہوئی تھی جب مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ان کی پہلی نظم روزنامہ سیاست لاہور کے سرورق پر شائع ہوئی اور یہ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ یہی نہیں بعد میں بھی 1934 اور 1937 کے دوران ان کی متعدد نظمیں روزنامہ انقلاب لاہور اور زمیندار لاہور کے سرورق پر شائع ہوتی رہیں اور اس سے انھیں عالمِ نوجوانی میں ہی غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی ۔احمد ندیم قاسمی کا پہلا شعری مجموعہ 1942 میں شائع ہوا ۔ بے شمار شعری اور افسانوی مجموعے شائع ہوۓ۔ مشہور زمانہ پنجابی فلم وحشی جٹ احمد ندیم قاسمی کے افسانے “گنڈاسہ” سے ماخوذ تھی۔ جس کا دوسرا حصہ مولا جٹ کے نام سے بنایا گیا۔ احمد ندیم قاسمی 10 جولائی 2006 کو مختصر علالت کے بعد حرکت قلب بند ہو جانے کے باعث 90 برس کی عمر میں اس جہاں فانی سے پردہ فرما گۓ۔