اشفاق احمد

اشفاق احمد اردو کے پہلی صف کے افسانہ نگار، ڈراما نویس ، ناول نگار، مترجم اور براڈ کاسٹر تھے۔ ان کا ڈراما سیریل ایک محبت سو افسانے پاکستان ٹیلی وژن کی لازوال ڈراما سیریل ہے۔ جناب اشفاق احمد ہندوستان کے شہر ہوشیار پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں خان پور میں ڈاکٹر محمد خان کے گھر 22 اگست، 1925ء بروز پیر پیدا ہوئے۔ انہوں نے ديال سنگھ کالج، لاہور میں دو سال تک اردو کے لیکچرار کے طور پر کام کیا اوراسکے بعد روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہوگئے۔وطن واپس آکر انہوں نے ادبی مجلہ داستان گو جاری کیا جو اردو کے آفسٹ طباعت میں چھپنے والے ابتدائی رسالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دو سال ہفت روزہ لیل و نہار کی ادارت بھی کی۔ وہ 1967ء میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہوگیا۔ 1989ء تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ صدر جنرل ضیاءالحق کےدور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گئے۔ 1965 ء میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ انہوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی جو ان ہی کا وصف سمجھی جاتی ہے۔ ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔ بعد میں سفردر سفر (سفرنامہ) ، کھیل کہانی (ناول) ، ایک محبت سو ڈرامے (ڈراما سیریز) اور توتا کہانی (ڈراما سیریز) ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔ 1965ءسے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر ایک ہفتہ وار فیچر پروگرام تلقین شاہ کے نام سے کرنا شروع کیا جو اپنی مخصوص طرز مزاح اور ذومعنی گفتگو کے باعث مقبول عام ہوا ۔ 1979 میں تمغۂ حسن کارکردگی کا صدارتی ایوارڈ بھی ملا عام طور پر چاہنے والے بابا جی کے نام سے پکارتے تھے۔ معروف ادیبہ بانو قدیسہ آپ کی اہلیہ ہیں۔آپ کے گھر کا نام داستان سرائے ہے

تاریخ پیدائش 1925-08-22
تاریخ وفات2009-09-07