رضیہ بٹ

 رضیہ بٹ 19 مئی 1924 میں پاکستان کے شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئیں۔ اردو کی مشہور ناول نگار اور کہانی نویس تھیں۔ انھیں خواتین میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ناول نگار ہونے کا درجہ حاصل ہے۔ دسویں جماعت میں اُردو میں ۱۰۰ فیصد نمبر حاصل کیے، جس پر اُستاد خاتون نے کہا کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو ایک سو نمبروں میں سے ایک سو پچاس نمبر دیتی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا ناول “بانو” منظرِعام پر آیا تو اس نے مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ برسوں بعد اس ناول کو ٹیلی ویثرن پر پیش کیا گیا۔ رضیہ بٹ نے 1940ء کے عشرے میں لکھنا شروع کیا-50 سے زائد ناول تصنیف کیئے۔ ان میں سےکئی ایک پر فلمیں بنیں اور عوام میں مقبولیت حاصل کی۔ فکشن نگاری میں خاص مقام حاصل ہے۔ رضیہ بٹ کے ناولوں پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ پاکستانی معاشرے میں عورت کے کردار کو مرکزی اہمیت دیتی ہیں۔ مثلاً ان کے ناول نائلہ، صاعقہ، انیلہ، شبو، بانو، ثمینہ، ناجیہ، شائنہ، سبین ، رابی اور بینا سب کے سب عورت کے مرکزی کردار کے گرد بُنے گئے ہیں۔  پاکستان کی پہلی رنگین فلم نائلہ انہی کے ناول پر مبنی تھی۔ 5اکتوبر، 2012ء کو ان کا انتقال لاہور میں ہوا ۔

تاریخ پیدائش 19/05/1924
تاریخ وفات05/10/2012