سبطِ حسن

 علم فلسفہ میں کمال کو پہنچنےوالےخال خال ہی ملتے ہیں۔ اردو میں چند ایک نام ہی نظر آتے ہیں۔ سبطِ حسن ان ناموں میں قدرے نمایاں دکھتے ہیں۔آپ نے ماضی کے مزار موسیٰ سے مارکس تک، پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء،انقلابِ ایران، کارل مارکس، اور نویدِ فکر حبیبی خالص علمی تصانیف تخلیق کیں۔ سید سبط حسن ان کا پورا نام ھے۔31 جولاٰئی 1912 کو جنم لینے والے سبط حسن علی گڑھ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔اپنی عملی زندگی کا آغاز پیام،نیا ادب،اور نیشنل ہیرالڈ جیسے رسالوں سے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور میں اقامت پزیر ہوۓاور میاں افتخار الدین کے ہفت روزہ لیل ونہار کی ادارت سنبھالی۔1965 میں لیل ونہار کی ادارت سے مستعفی ہو کر اپنا زیادہ تر وقت تصنیف و تالیف میں بسرکرنے لگے۔ اور پھر ان کے قلم نے علم کے وہ شاہکار تحریر کئیے جو سبطِ حسن کو بطورِمصنف بامِ عروج پر لے گۓ۔1975 میں انہوں نے ایک ادبی جریدے کا اجراء بھی کیاجس کا نام پاکستانی ادب تھا۔ ادب کی دنیا کی یہ عظیم ہستی 20 اپریل 1986 کو خالق حقیقی سے جا ملی۔