سعادت حسن منٹو

اردو ادب کے تمام ناقدین اس بات پر متفق ہیں کہ منٹو اردو کا سب سے بڑا افسانہ نگار ہے۔گو آج اس کو دنیا سے پردہ کیے ہوئے 62 سال ہو چکے ہیں۔لیکن بعد کی اس پون صدی میں بھی کوئی افسانہ نگار کوئی کہانی نویس منٹو کے سحرکو توڑ نہیں سکا اس کے حصار کو پار نہیں کر سکا۔منٹو نے صرف 43 برس کی زندگی پائی وہ 11 مئی 1912ء کو پیدا ہوئے اور 18 جنوری 1955 کو فوت ہو گئے۔ان کی اس مختصر زندگی کا زمانہ سیاسی ابتری کا زمانہ تھا۔ پہلی جنگ عظیم ،دوسری جنگ عظیم ہندوستان میں آزادی کی تحریکیں، پھر پاکستان ہندوستان کی تقسیم۔عہدِ منٹو مسلمانوں کے نشاۃ الثانیہ کا دور تھا ۔۔ کئی قومیں غلامی میں چلی گئیں اور کئی ممالک آزاد ہوئے۔ اس دور میں اردو ادب میں بھی تلاطم بپا رہا۔منٹو سکول کے زمانے میں کچھ اتنے لائق نہ تھے۔میٹرک کئی بار فیل ہونے کے بعد پاس کیا۔ ان کا شمار ان گنے چنے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جو ہر افسانے کا باقاعدہ معاوضہ لیا کرتے ہیں۔ ان کا پہلا افسانہ ،تماشہ ، اور آخری افسانہ ،ٹھرکی، تھا۔ ان کے اکثر افسانے معاشرے کےتعفن پر ہوتے جس کے باعث ان پر فحاشی کے تقریباً 18،17مقدمات بنے۔اپنا مقدمہ وہ خود لڑا کرتے تھے۔سب سے زیادہ شور ان کے افسانہ”کھول دو”پر مچا ۔جب تقسیم ہند کے تناظر میں لاہور کے مہاجر کیمپ میں ایک لٹے پٹے گھرانے کی بچی کی عزت رضا کاروں کےایک گروہ نے پامال کی تو اس پر منٹو نے افسانہء مزکورہ لکھا۔۔ تو ادب کے پرچم برداروں نے منٹو کو ادب سے فارغ قرار دے دیا لیکن معاشرے کی برائیوں کا پردہ چاک کرنے سے منٹو کبھی باز نہ آئے اور ان کی عوامی اور ادبی مقبولیت بڑھتی ہی چلی گئی۔وہ ایک جادو گر افسانہ نگار تھا۔ جس کی تحریروں کی تپش ہر نیا دن گزرنے کے با وجود بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ کچھ شک نہیں کہ منٹو بہت ہی بڑا افسانہ نگار تھا۔اور اس کے ذکر کےبغیر اُردو افسانوں کی تاریخ مرتب ہو ہی نہیں سکتی۔

تاریخ پیدائش 1912-05-11
تاریخ وفات1955-01-18