شوکت صدیقی

شوکت صد یقی ان گنے چنے ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جن کے تزکرے کے بغیراردو ادب کی تاریخ مرتب ہی نہیں کی جا سکتی۔ ان کے ایک ناول  “خدا کی بستی”  پر عرصہ گزرا پی-ٹی-وی سے ایک قسط وار ڈرامہ نشر ہوا تھا جو اتنامقبول ہواکہ جس وقت ڈرامہ ٹی وی پر چل رہاہوتا اس وقت کوچہَ و بازار سنسان ہو جاتے۔اس طرح ان کا دوسرا ناول جانگلوس غالباً سب رنگ ڈائیجسٹ میں قسط وار چھپنا شروع ہواتو قارئین نے اس قدر پسند کیا کہ مقبولیت کے نۓ ریکارڈ قائم ہو گۓ۔ کتابی شکل میں بھی ان دونوں کتابوں کی شہرت بہت زیادہ ھے۔اور بیسیوں سال گزرنے کے باوجود آج بھی روزِاول والی فروخت برقرار ہے۔شوکت صدیقی نے 20 مارچ 1923 کو لکھنو میں جنم لیا۔ ایم-اے سیاسات تک تعلیم حاصل کی۔قیام پاکستان کے بعد کراچی کو اپنا مستقر بنایا۔ کچھ عرصہ بعد شادی ہوئی تو ادب و صحافت کو ہی شوق اور پیشہ بنا لیا۔۔اپنے وقت کے مقبول ترین اور کیثرالشاعت اورروز نامہ مساوات کے بانی مدیر ہیں اورروزنامہ انجام اور الفتح سے بھی منسلک رہے۔ خدا کی بستی کا دنیا کی تقریباً ہر اہم زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ عمر عزیز کے دن پورے کر کے آخر کار 18 دسمبر 2006  کو جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ علم و ادب اور صحافت کے دنیا میں ایسی دبنگ شخصیات کبھی کبھی ہی جنم لیتی ہیں۔