طارق اسماعیل ساگر

طارق اسماعیل ساگر
جیسا کی آپ سب جانتے ہیںکہ ساگر سمندر کو کہا جاتا ہے۔ لیکن طارق اسماعیل کی طبع میں سمندر کی لہروں جیسی بلا خیزروانی اور تلاطم خیزی نام کو بھی نہیں۔ وہ تالاب کے ساکن پانیوں جیسی شفاف اور ٹھہری ہوئی طبعیت کے مالک ہیں ان کے ناولوں کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ کوئی صاحب ذوق جب کسی کتب خانہ میں داخل ہو تو وہ شو کیس میں سجے ہوئے۔ ساگر صاحب کے ناولوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہ فیصلہ آج تک نہیں ہو سکا کہ طارو اسماعیل ساگر اول درجہ کے صحافی ہیں یا بلند پایہ ناول نگار۔ ایک بار جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو وہ بولے اور یہ دلیل دی۔۔۔۔ صحافی دن کے وقت کھلتا ہے ناول نگار رات کے وقت ہمارے جزبات سے کھیلتا ہے۔
واقعی طارق اسماعیل ساگر ہر فن مولا ہیں۔ ان کا شمار تجربہ کار صحافیوں میں ہوتا ہے۔ تو وہ ملک کے مقبول ترین ناول نگار بھی ہیں۔ ان کے قارئین ملک کے گوشے گوشے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ طارق اسماعیل کی اس خوبی کے سب مداح ہیں۔ وہ ایک محب وطن صحافی ہیں۔1965 اور 1971 کی جنگ میں وہ خبروں کی تلاش میں بہت دور نکل گئے تھے۔ آنکھ کھول کر دیکھا تو وطن کی سر زمین بہت پیچھے رہ گئی تھی۔ اور اپنے ملک کے دشمن کی سر زمین پر قدم رکھ چکے تھے۔ پیاس لگی تو ایک دیہاتی سے جا کر پانی مانگا اور اس سے پتہ چلا کہ وہ اس وقت ہندوستان کی سرزمین پر تھے۔ اب ان کے اندر اچانک ایک جاسوس بیدار ہو گیا۔ انہوں نے فورا ایک ہندوستانی کا روپ دھار لیا اور خبریں جمع کرنے لگے۔ بعد میں انہوں نے ایک ناول لکھا تو عنوان تھا ”میں ایک جاسوس تھا“
ناول نگاری اور صحافت کی مصروفیت میں ہی انہوں نے فلم”سلاخیں“ کی کہانی مکمل کی اور اس کا سکرین پلے تحریر کیا۔ یہ فلم ملک کے تمام حلقوں میں پسند کی گئی۔ اور طارق اسماعیل ساگر کو کئی ایوارڈ بھی دیے گئے۔