کرشن چندر

اردو ادب میں منٹو کے بعد سب سے بڑے افسانہ نگار کے طورپرکرشن چندر کا نام بلا مقابلہ ہے۔ آپ نے بہترین ادب تخلیق کیا۔ کرشن چندر کی پیدائش 23 نومبر 1914 کو وزیر آباد (پاکستان) میں ہوئی۔ ان کے والد میڈیکل افسر تھے۔ 1929 میں میٹرک اور 1935 میں انگریزی میں ایم اے کیا۔ کرشن چندر اردو پر غضب کی گرفت رکھتے تھے۔ اپنےہم عصروں میں نمایاں ترین تھے لگ بھگ 18 ناولوں کے ساتھ ساتھ ان گنت افسانہ نگاری کی۔ “ایک گدھے کی سر گزشت” اپنے دور کی مقبول ترین کتاب ہے شمع دھلی میں سلسلہ وار چھپتی رہی۔ تقسیم ہند کے دوران ہونے والے انسانیت سوز واقعات ان کے قلم کا خاص محور تھے۔بے شمار فلمیں جن میں شرافت، دل کی آواز، دھرتی کے لعل، دو پھول، دو چور، من چلی کے منظر نامے بھی تحریر کئیے۔ کرشن چندر نے دو شادیاں کیں۔ یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ آپ آخری عمر میں مسلمان ہو گۓ تھے۔ کرشن آج بھی افسانہ پڑھنے والوں میں روزاول کی طرح ہی مقبول ہیں۔ آپ کا انتقال 8 مارچ 1977 کو ہوا۔ کرشن چندر کے انتقال سے اردو ادب میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا۔ جو آج تک پر نہیں ہوا۔ کرشن چندر انگریزی ماہنامہ دی کیریرزاورہفت روزہ دی ناردرن ریویو کے مدیر بھی رہے۔