Cart0
b3
b2
b1

کتابی دنیا، کتاب سے محبت کرنے والوں کے لئےایک ایسی ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو کتاب اور اس کے مصنف ، پبلیشر سے متعلق معلومات انتہائی آسانی سے مل جائیں گی قارئین کی آسانی کی لئے کتابوں کو موضوعات اور ذیلی موضوعات میں رکھا گیا گے اس کے علاوہ اپ کسی بھی کتاب کو اردو میں تلاش کرسکتے ہیں تلاش کرنے کے لئے اپنے کمپیوٹر سے اردو میں میں کسی کتاب کا نام مصنف کا نام یا پبلیشر کا نام لکھ کر اور آپ کسی خاص موضوع پر کتاب تلاش کرنا چاہتے ہیں تو اس موضوع کا نام لکھ کر تلاش کریں ۔ ہماری ویب سے آپ گھر بیٹھے بھی کتابیں منگوا سکتے ہیں 1000 سے زائد مالیت کی کتابوں کی خریداری پر ڈاک خرچ ادارہ ادا کرے گا۔

مقبولِ عام کتابیں

اس ماہ کی کتاب کا تعارف

9693525957

اے غزالِ شبمستنصر حسین تارڑ

خاقان ساجد 15 فروری 1965 میں واہ میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام مرزا محمد سلیم ہے۔ ان کا پہلا افسانہ (بھوبل) تھا جو مون ڈائجسٹ میں 1982 میں شائع ہوا۔ ان کے تراجم سب رنگ، عمران ڈائجسٹ، الف لیلٰی، امبر بیل۔ مسٹر میگزین، اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔اب تک ان کا ایک افسانوی مجموعہ(آدم زاد) منظر عام پر آیا ہے۔یہ پراسرار کہانیاں لکھنے کے ماہر ہیں ان کے ایک ناول (چمپون)نے خاصی مقبولیت حاصل کی ہے پراسرار کہانیوں کی ایک کتاب (وحوش)بھی شائع ہو چکی ہے۔

ان کی نوبل انعام یافتہ مصنفین اور مشہور عالمی افسانہ نگاروں کی کہانیوں کے تراجم پر مشتمل چار کتابیں شائع ہوئی ہیں

اس ماہ کے مصنف کا تعارف

khakan_sajid

خاقان ساجد

اشفاق احمد اردو کے مشہور و معروف افسانہ نگار، ڈراما نویس ، ناول نگار، مترجم اور براڈ کاسٹر تھے۔ ان کا ڈراما سیریل ایک محبت سو افسانے پاکستان ٹیلی وژن کی لازوال ڈراما سیریل ہے۔

جناب اشفاق احمد ہندوستان کے شہر ہوشیار پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں خان پور میں ڈاکٹر محمد خان کے گھر 22 اگست، 1925ء بروز پیر پیدا ہوئے۔

انہوں نے ديال سنگھ کالج، لاہور میں دو سال تک اردو کے لیکچرار کے طور پر کام کیا اوراسکے بعد روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہوگئے۔وطن واپس آکر انہوں نے ادبی مجلہ داستان گو جاری کیا جو اردو کے آفسٹ طباعت  میں چھپنے والے ابتدائی رسالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

 دو سال ہفت روزہ لیل و نہار کی ادارت بھی کی۔ وہ 1967ء میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہوگیا۔ 1989ء تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔

صدر جنرل ضیاءالحق کےدور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گئے۔ 1965 ء میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ انہوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی جو ان ہی کا وصف سمجھی جاتی ہے۔